Map

Mera Muhallah: Qayyumabad

Gandi Galli (Between Street 19 and 20)گندی گلی

Open
Angela Maria Bhatti
0:000:00
Transcript

جہاں ہم پلے بڑھے ہیں، ہمارے اس گھر کے پیچھے ایک چھوٹی سی گلی ہوا کرتی تھی جس کو ہم “گندی گلی” کہتے تھے۔ اس کو ہم گندی گلی اس لیے کہتے تھے کیونکہ پہلے تو ہم وہاں بہت کھیلتے کودتے تھے، ہمارے پڑوسی بھی وہاں اس جگہ کو استعمال کرتے تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہاں پر پھر کسی نے بسیرہ نہیں کیا۔ تو وہاں پر جو منشیات استعمال کرنے والے لوگ تھے، جنہیں ہم چرسی کہتے ہیں، وہ وہاں بیٹھنا شروع ہو گئے۔

ہمارے اس کمرے کی کھڑکیاں اور دروازہ اسی گندی گلی میں کھلتے تھے۔ ایک تو ہمیں بہت خوف آتا تھا کیونکہ میں اپنی بہنوں میں سب سے بڑی ہوں، اور میں اور میری بہنیں اسی کمرے میں سوتے تھے۔ ہمیں ہر وقت، حتیٰ کہ کپڑے بدلتے ہوئے بھی ڈر لگتا تھا کہ کوئی کہیں کھڑکی میں سے جھانک تو نہیں رہا۔ اس کھڑکی کے برابر میں دروازہ بھی تھا، اور ہمیں ہر وقت یہی خوف لگا رہتا تھا کہ کہیں کوئی باہر سے شرارت کر کے یہ دروازہ نہ کھول دے، یا کوئی چوری نہ ہو جائے۔

اور ایک رات ایسا ہی ہوا۔ ہم دوسرے کمرے میں سو رہے تھے اور گندی گلی میں بیٹھنے والے چرسیوں نے بہت چالاکی سے کھڑکی کھول کر دروازہ کھولا اور ہمارے کمرے میں گھس کر چیزیں چوری کر لیں۔

اسی خوف میں میں بڑی ہوئی، میری بہنیں بڑی ہوئیں۔ ہم لوگ رات رات بھر جاگتے تھے اور دیکھتے رہتے تھے کہ کہیں کوئی ہمیں دیکھ تو نہیں رہا۔ اسی لیے کپڑے بدلتے ہوئے بھی ہم خود کو بالکل محفوظ محسوس نہیں کرتے تھے۔

تو جب اپنا گھر ہی محفوظ نہیں تھا، تو محلہ کہاں سے محفوظ لگتا